ویران سرائے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ویران سرائے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 28 مارچ، 2023

میرے ہوتے ہوئے یہاں عاکف، ارسلان احمد عاکف

Gmail: ahleeqalam@gmail.com 

 

ارسلان احمد عاکف

Ahle Qalam Group

روز آتے ہیں یہاں ہارے ہوئے شخص

Ahle Qalam Writing Forum

 روز آتے ہیں یہاں ہارے ہوئے شخص

جیت کر کوئی ادھر کیوں نہیں آتا

ارسلان احمد عاکف

نادان ہوں کرتا ہوں خود ہی سے جرح


نادان ہوں کرتا ہوں خود ہی سے جرح
عاکف ہے کیا کوئی بھرم کچھ بھی نہیں
ارسلان احمد عاکف

منگل، 15 فروری، 2022

دنیا کے طرزِ تکلم میں جو

دنیا کے طرزِ تکلم میں جو وحشت پائی

دنیا ہی چھوڑ دی اور فرطِ مسرت پائی


محفلِ ناز میں الفت کی ضرورت پائی

راحتِ جاں نہ تھی منہ دیکھے کی الفت پائی


خوش نصیبی ہے مری جان سلامت پائی

زندگی پائی جو الفت میں غنیمت پائی


چین تھا دل کو مرے دوستوں کی محفل میں

دوست جو روٹھ گئے تو شبِ فرقت پائی


دربدر پھرتے رہے دنیا کی چاہت میں ہم

دنیا بھی کھو دی نہ فوق البشریت پائی


گِھر گیا دین و محبت کی خلِش میں عاکف

نہ کوئی دین ملا اور نہ محبت پائی

ارسلان احمد عاکف 

ہم جانتے تو ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں

ہم جانتے تو ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں

انکی نظر میں محترم کچھ بھی نہیں


میری نظر میں آبِ غم کچھ بھی نہیں

یہ آپ کا ظلم و ستم کچھ بھی نہیں


بے چین ہیں اب ساحلِ دریا سبھی

مت ڈھونڈ تو آبِ ندم کچھ بھی نہیں


تیری محبت میں یہ پتھر جیسا دل

کثرت سے ٹوٹا اور غم کچھ بھی نہیں


نادان ہوں کرتا ہوں خود ہی سے جرح

عاکف ہے کیا ؟ کوئی بھرم؟ کچھ بھی نہیں

ارسلان احمد عاکف 

کسی کا بھی اتنا مرتبۂ کمال نہ ہو

کسی کا بھی اتنا مرتبۂ کمال نہ ہو

کہ اس کے بغیر جینا کبھی محال نہ ہو


ہزاروں ستم ہوں تو یہ نہیں ہو سکتا جناب

کہ محفلِ غم میں نغمۂ انفصال نہ ہو


بس ایک وہی خفا ہے تو کوئی بات نہیں

زمانہ بھی روٹھ جائے کوئی ملال نہ ہو


بے فہم سخن طراز یہی تو چاہتے ہیں 

کہ بزمِ سخن میں متحد الخیال نہ ہو


میں لاکھ بے احتیاط سہی مگر اے خدا

کسی کا وجود عشق میں پائمال نہ ہو

ارسلان احمد عاکف 

بڑھا دے مول ان آنکھوں کا بنجارے

بھری محفل میں سب اپنے تھے نظروں میں

کوئی اپنا نہ پایا میں نے اپنوں میں


عزیزِ آشنا بھی ہم کو پیارا ہے

ارے اب تو وہ بھی آتا ہے خوابوں میں


اے آنے والے آؤ آپ کی خاطر

سجائے بیٹھے ہیں ہم پلکیں راہوں میں


ہمیں منظور ہے بس اتنا کہنا تھا

ختم شد قصۂ الفت دو لفظوں میں


وہ اسکا دستخط کرتے ہوئے ہائے

زباں پر قفل تھا لرزش تھی ہاتھوں میں


نگاہیں تو اٹھاتے دیکھتے ہم بھی 

کہ کتنا درد ہے تیری نگاہوں میں


ہوئی رخصت جو سجنی سرخ جوڑے میں

جلے ہم چشم تنہا کالی راتوں میں


یہ دل روتا ہے سوکھے ہیں مگر روزن

کہ اب شدت کہاں ہے میرے اشکوں میں


حقیقت میں نہیں ملتی کبھی چاہت

بسایا ہے اسے بس اپنے خوابوں میں


بڑھا دے مول ان آنکھوں کا بنجارے

ہزاروں سپنے بستے ہیں ان آنکھوں میں


نہ چھیڑو تم محبت کی کہانی کو

بہت غم ہیں محبت کے بکھیڑوں میں


تری بستی گیا تھا آج بھی عاکف

ترے پیچھے اداسی سی ہے گلیوں میں

ارسلان احمد عاکف 

پیر، 14 فروری، 2022

ہمیں بے فہم جہاں والے شاہ کہتے ہیں

ہمیں بے فہم جہاں والے شاہ کہتے ہیں

ہمارے پاس ہے کیا خوامخواہ کہتے ہیں


ذرا سے لوگ تو عالم پناہ کہتے ہیں

کبھی کبھی نہیں کہتے وگرنہ کہتے ہیں


بڑے عجب ہیں مرے شہر کے سخن پرور

مری ہر ایک حماقت پہ واہ کہتے ہیں


دریچے تو ہیں سلامت بے نور کیوں ہیں لوگ

سفید کو بھی ہمیشہ سیاہ کہتے ہیں


یہ دنیا والے تماشا لگاتے ہیں ہر روز

جو اپنی چھوٹی محبت کو چاہ کہتے ہیں


ہیں لوگ سب ہی عجیب و غریب سے عاکف

کہ خود ہی چوٹ لگاتے ہیں آہ کہتے ہیں

ارسلان احمد عاکف 

راہِ الفت میں کوئی

 راہِ الفت میں کوئی دقت نہیں ہے

پر محبت کی اب ضرورت نہیں ہے


اب فنونِ الفت سے ہمکو غرض کیا

دل لگی کی اب کوئی صورت نہیں ہے


حسن والے تو ہیں زمانے میں لیکن

عشق کرنے کی ہم کو فرصت نہیں ہے


ہاں ہماری لاکھوں خطائیں ہیں لیکن

ہمکو کوئی داغِ ندامت نہیں ہے


بارہا ہر جانب گئی چشم عاکف

کوئی تشنہ کامِ محبت نہیں ہے

ارسلان احمد عاکف

بجھ گئے سب دیے

بجھ گئے سب دیے جب سے تو نہ رہی

بن ترے اب کوئی آرزو نہ رہی


عشق میں چھن گئی خوش کلامی مری

اب مری پہلے سی گفتگو نہ رہی


زخم کھا کر بھی ہم مسکراتے رہے

زخم کو اب امیدِ رفو نہ رہی


میکدے میں جو جامِ سفال نہیں

میکدے جانے کی آرزو نہ رہی


پہلے تھی خوب سے خوب تر کی تلاش

اب کسی کی ہمیں جستجو نہ رہی


ساقی آزاد کر میکدے سے ہمیں

اب ہماری یہاں آبرو نہ رہی

ارسلان احمد عاکف 

اس کی محفل میں خوب الفت ملی تھی

اس کی محفل میں خوب الفت ملی تھی 

پیار کے بدلے میں اذیت ملی تھی


داستانِ الفت تمہیں کیا سناؤں

راہِ الفت میں بس ندامت ملی تھی


وہ شرابی آنکھیں وہ بکھرے ہوئے بال

عشق کی گلیوں سے عداوت ملی تھی


خود ہی کر ڈالی اپنے ہاتھوں سے برباد

زندگی مجھ کو خوبصورت ملی تھی


خواہشوں کی خاطر میں نے کھو دی وہ بھی

مجھ کو ورثے میں بس محبت ملی تھی

ارسلان احمد عاکف 

اتوار، 13 فروری، 2022

جب کھلی کوئے ستم ظالم نگاں پر

جب کھلی کوئے ستم ظالم نگاں پر

ٹوٹ کر برسے ستم گر نم فشاں پر


ہے کٹھن جینا غریبوں کا یہاں پر

ظالموں کا راج ہے اب آشیاں پر


لٹ رہی ہیں دیس کی معصوم کلیاں

حکمرانوں کی توجہ ہے کہاں پر


چین سے گھومے ستم گر شہر میں اور

نیند عادل کو لیے بیٹھی یہاں پر


میں اگر جھوٹا ہوں تو تم شچ بتا دو

کیوں لگاتے ہو قفل میری زباں پر


درد دے کر مجھ کو کہتے ہیں ستم گر

ہائے غالب آئے ہم نکتہ فشاں پر


آج نکلا گل فشاں عاکف کے ہمراہ

بد نظر مت ڈالنا تم کارواں پر

ارسلان احمد عاکف

رہ گئے بھوت ختم شد سب راج

 رہ گئے بھوت ختم شد سب راج

موری نگری میں گدھن پایو تاج


گیت جھوٹا یہ لکھت ہے نسّاج

کہ بہت پیارا ہمارا دھیراج


موری اچّھا ہے کہ دیکھوں میں آج

کیسے چغلی ہے لگاوے درّاج


ہوک اٹھاؤں میں لیے تن یکتا

مورے ہر سمت ہیں گھومے پوّاج


نہ دکھا موہے تو مکھ کے جلوے

دلربا  ہاتھ نہ آؤں میں آج

ارسلان احمد عاکف

بدھ، 2 فروری، 2022

غزلیاتِ عاکؔف

چلے جو مخالف کوئی میرے ہمراہ

تو احباب میرے کہیں مجھ کو شتّاہ


سنو میرے احباب اک بات میری

مناسب ہے مل کر چلیں جب ہو یکراہ


یہ طعنہ زنی تم جو کرتے ہو مجھ پر

تمہارے لیے کب بنا ہوں میں سرواہ


بہت غم سہے شب کی تاریکیوں میں

اُمید سحر میں ہے جینے کی اُتساہ


بہت ہیں زمانے کے غم میرے در پے

وہ چنچل بھی اب کر رہی مجھ کو گمراہ


وہ کہتی کہ میں تیرے در پے نہیں ہوں

چلو مان لیتے ہیں کہ ہے یہ افواہ


میں اپنے علاقے کا تنہا سپاہی

وہ اپنے نگر کی خطرناک روباہ


گزارش ہے مطرب سے عاکف کی بس اک

کہ شب بھر اے مطرب سنا مجھ کو رتواہ

ارسلان احمد عاکف 

اردو غزل

 اٹھائے ہیں کیا کیا ستم رات بھر میں

دیے جل رہے ہیں امیدِ سحر میں


بہت سے کٹھن راستے ہیں مگر تم

چراغوں کو بجھنے نہ دینا نگر میں


بتاتی ہے بے چین پلکوں کی الجھن

دریچے کھلے ہی رہے رات بھر میں


اٹھاتے اٹھاتے میں اب تھک چکا ہوں

بہت آئے پتھر مری رہ گزر میں


نگر کی اداسی بتاتی ہے ہر روز

بہت سے ہیں عاکف ستم گر نگر میں

ارسلان احمد عاکف

ویران سرائے، ارسلان احمد عاکف

 آیا ہے تو رک بھی جا، جانِ  جگر بات کر

آ اب سخن آزما، اب رات بھر بات کر


اک رات کی بات ہے، برسات کی رات ہے

دیکھوں تری رہ گزر، تو ہے کدھر بات کر


تو کیوں ہے مجھ سے خفا، یہ راہ ہے کیوں جدا

تیرے لیے ہی ہوا، میں در بدر بات کر


میں ہوں ترا رازداں، تو ہے مرا آئینہ

پھر کیوں ہے یہ تلخیاں، ایسا نہ کر بات کر


ڈھونڈے تجھے یہ نظر، باتیں تری خوب تر

جو آج پھر ہو اثر، اے با اثر بات کر

ارسلان احمد عاکف