اردو کالم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو کالم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 2 اپریل، 2020

تعلیم بنیادی حق

تعلیم بنیادی حق 
تحریر: نواب رانا ارسلان٬ اسماعیل آباد

تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں ہر بچا اسے حاصل نہیں کر سکتا کیوں کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائی نہیں ہوتی اور پرائیویٹ کی فیس ہر کوئی ادا نہیں کر سکتا۔ افسوس کہ گلِ چمن سڑکوں پہ پانی جوس اور پھول بیچ رہے ہیں اور روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے لگانے والوں کو کسی کی فکر نہیں، پہلے چار دن شوشل ورکرز کی طرف سے ایک نعرہ بلند ہوا تھا کہ "تعلیم دو" "تعلیم دو" لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ آواز بھی تھم چکی ہے۔ سندھ کے بہت سے سرکاری اسکولوں کی عمارات میں لاکھوں روپے خرچ ہوئے ہیں لیکن ان میں تعلیم کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ افسوس کہ یہاں بہت سے میٹرک کے ایسے شاگرد بھی ہیں جنہیں اردو پڑھنی نہیں آتی، استاد اسکولوں میں آتے ہیں اور سارا دن باتیں کرتے ہیں اور پھر چھٹی کے وقت اپنے گھروں میں چلے جاتے ہیں۔ امتحانات میں سرِعام نکل ہوتی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
سرکاری اسکولوں میں استاد بہت پڑھے لکھے ہیں لیکن بچوں کو پڑھاتے نہیں ہیں بعض جگوں پہ تو استاد اسکول بھی نہیں آتے اور مفت کی تنخوا لیتے ہیں۔ پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھائی تو ہوتی ہے لیکن ان کے استاد زیادہ تجربہ گار نہیں ہوتے اور پرائیویٹ اسکولوں کی فیس ہر بچا ادا بھی نہیں کر سکتا۔ سندھ میں کاپی کلچر عروج پر پہنچا ہے، اردو زبان کی تو یہاں کوئی اہمیت ہی نہیں ہے، چند ایک کے سوا یہاں کوئی شخص اردو سے اچھی طرح واقف ہی نہیں۔
استاد کا احترام کرنا ہر شاگرد کا فرض ہے لیکن میں نے بہت سے پرائیویٹ اسکولوں میں دیکھا ہے کہ شاگرد استاد کا احترام نہیں کرتے وہ اس لیے کہ وہ فیس دیتے ہیں، یہ بہت نامناسب سی بات ہے، شاگردوں کو چاہیے کہ وہ استاد کا دل سے احترام کریں کیوں کہ جو شاگرد استاد کا احترام نہیں کرتا وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔
الله تعالی ہمارے سرکاری اسکولوں کے ایسے استادوں کو ہدایت دے جو مفت کی تنخوا لیتے ہیں لیکن پڑھاتے نہیں، اور الله تعالی ہمیں اور وطنِ عزیز کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین

منگل، 31 مارچ، 2020

ویرانی چھا گئی

ویرانی چھا گئی
نواب رانا ارسلان
اسمائیل آباد عمرکوٹ
سندھ پاکستان

آج کتنا پُر سکون ماحول ہے، ہر طرف خاموشی چھائی ہے، گلیاں سنسان پڑی ہیں، لوگ راستوں پہ نظر نہیں آ رہے، شہر میں کوئی شور نہیں سب رونقیں چلی گئی، ہر طرف اداسی چھا گئی۔ شاید کرونا وائرس کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤں پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ لوگ سہمے سہمے سے گھروں میں بیٹھے ہیں، ایسے ویرانی چھائی ہے جیسے میں کسی صحرا میں ہوں دور دور تک کوئی چیز نظر نہیں آ رہی، اور شاید اس وقت لاک ڈاؤں ہونا بہتر ہے حکومت کا یہ فیصلہ عوام کے لیے درست ہے۔ آج پولیس نے میرے گاؤں کی دوکانیں بھی بند کروا دی، لوگوں نے بچوں کو گلیوں میں کھیلنے سے روک دیا، گلی میں نکل کر دیکھا تو پرندوں کے سوا کوئی چیز نظر نہیں آئی، خوشی ہوئی کہ آج ہر شخص اس وبا کے خلاف یکجا ہے لیکن کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ’’ ہم باہر نکلیں گے لوگوں سے ہاتھ ملائیں گے گلے ملیں گے ہمیں کچھ نہیں ہوگا‘‘ ایسے لوگوں کا عقل سے کوئی واسطہ نہیں جو خود کو اور دوسرے لوگوں کو بھی مصیبت میں ڈال رہے ہیں۔
ہمیں بہت احتیاط کرنی چاہیے کیوں کہ احتیاط بہت ضروری ہے اس وبا کو روکنے کے لیے، اور ہمیں اپنے آس پاس ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے جو روز کما کے کھاتے ہیں۔
اور ہمیں دعائیں کرنی چاہیے اپنے لیے اور اپنے وطن کے لیے، میری اہلِ وطن سے درخواست ہے کہ دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں۔
الله تعالی ہمیں اور وطنِ عزیز کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین
نواب رانا ارسلان
اسماعیل آباد، عمرکوٹ
سندھ پاکستان

میرے جانباز

میرے جانباز
تحریر: نواب رانا ارسلان

وطنِ عزیز کے وہ جانباز جو فرنٹ لائن میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں شریک ہیں انہیں خاکسار سلام پیش کرتا ہے۔
پہلے تو پولیس پہ ہمیشہ تنقید ہی ہوتی رہی ہے لیکن اب احساس ہوا کہ آج پولیس درست ہے لیکن لوگ گھروں میں نہیں بیٹھ سکتے شاید عادت نہیں گھروں میں بیٹھنے کی۔ کل جب میں شہر گیا تو دیکھا کہ سندھ پولیس کے اہلکار کڑی دھوپ میں کھڑے ہیں اور آتے جاتے لوگوں کو ماسک پہننے کی ہدایت کر رہے ہیں اور ہجوم سے روک رہے ہیں، یہ ہیں ہمارے جانباز جو سارا دن ہمارے لیے دھوپ میں کھڑے رہتے ہیں، میں ان سپاہیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
اور فرنٹ لائن میں لڑنے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف جو اس خطرناک وبا کا مقابلہ کر رہے ہیں، انہیں بھی خاکسار سلام پیش کرتا ہے۔
اور ہماری آرمی کے جوان جو ہر مصیبت میں ہماری مدد کے لیے آ جاتے ہیں انہیں بھی خاکسار سلام پیش کرتا ہے۔
اور میری اہلِ وطن سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے اپنے گھروں میں رہیں اور گھروں میں رہ کر ہمارے وطن کے ان جانبازوں کے لیے دعا کریں جو اس وبا کے خلاف جنگ میں شریک ہیں۔
الله تعالی ہمیں، ہمارے جانبازوں اور وطنِ عزیز کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین