اردو شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 15 فروری، 2022

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا

 

فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر

برنگ سبزۂ نورستہ پائمال کیا

 

رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی

سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا

 

مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم

نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا

 

بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو

چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا

 

جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف

کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا

 

لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے

جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا

میر تقی میر

 

 

شب ہجر میں کم


 میر تقی میر

غزل میر تقی میر

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

 

عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند

یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

 

حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی

ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا

 

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

 

سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں 

بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا

 

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی

کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا

 

کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام

کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا

 

شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانے میں 

جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا

 

کاش اب برقع منھ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہے

آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا

 

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے

رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

 

صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی

رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا

 

ساعد سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے

بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیال خام کیا

 

کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے

استغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا

 

ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی

سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا

 

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

میر تقی میر

 

 

اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا

 اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا

چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا

 

امیدوار وعدۂ دیدار مر چلے

آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا

 

کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں 

کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا

 

اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں 

معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا

 

بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل

اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا

 

جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف

اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا

تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پر

کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا

میر تقی میر

 


نزرِ شہداء


 حبیب جالب

پیر، 14 فروری، 2022

جامہ مستی عشق اپنا


 میر تقی میر

نکلے ہے چشمہ جو کوئی

نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا

یاد دہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا

 

لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا

حسن کیا صبح کے پھر چہرۂ نورانی کا

 

کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے

حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا

 

درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں 

سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا

 

جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا

تنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا

 

کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں 

ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا

 

وہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوب

ہم نے سر نامہ کیا کاغذ افشانی کا

 

اس کا منھ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں 

نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا

 

بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں 

معتقد کون ہے میرؔ ایسی مسلمانی کا

میر تقی میر

 

 

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا

آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

 

کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم

آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا

 

آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن

ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا

 

اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ

جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا

 

جانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میں 

کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا

 

نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا

جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا

 

مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے

کل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا

میر تقی میر

 

 

تھا مستعار حسن سے

 تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

 

ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا

پیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا

 

پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں 

معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا

 

آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم

یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا

 

مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر

کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا

 

اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا

دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا

 

منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا

اس رند کی بھی رات گذر گئی جو عور تھا

 

ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر

اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا

ق

کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیا

یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا

 

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر

میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا

 

تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرؔ

سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا

میر تقی میر

 


دل کی بات لبوں پر


 

ہمیں بے فہم جہاں والے شاہ کہتے ہیں

ہمیں بے فہم جہاں والے شاہ کہتے ہیں

ہمارے پاس ہے کیا خوامخواہ کہتے ہیں


ذرا سے لوگ تو عالم پناہ کہتے ہیں

کبھی کبھی نہیں کہتے وگرنہ کہتے ہیں


بڑے عجب ہیں مرے شہر کے سخن پرور

مری ہر ایک حماقت پہ واہ کہتے ہیں


دریچے تو ہیں سلامت بے نور کیوں ہیں لوگ

سفید کو بھی ہمیشہ سیاہ کہتے ہیں


یہ دنیا والے تماشا لگاتے ہیں ہر روز

جو اپنی چھوٹی محبت کو چاہ کہتے ہیں


ہیں لوگ سب ہی عجیب و غریب سے عاکف

کہ خود ہی چوٹ لگاتے ہیں آہ کہتے ہیں

ارسلان احمد عاکف