نگارِ صبح کی اُمید لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
نگارِ صبح کی اُمید لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 18 فروری، 2022

تم اصل ہو یا خواب ہو تم کون ہو

تم اصل ہو یا خواب ہو تم کون ہو

تم مہر ہو مہتاب ہو تم کون ہو

جو آنکھ بھی دیکھے تمہیں سرسبز ہو

تم اس قدر شاداب ہو تم کون ہو

تم لب بہ لب ،تم دل بہ دل ،تم جاں بہ

جاں

اک نشہ ہو اک خواب ہو تم کون ہو

جو دست رحمت نے مرے دل پر لکھا

تم عشق کا وہ باب ہو تم کون ہو

میں ہر گھڑی اک پیاس کا صحرا نیا

تم تازہ تر اک آب ہو تم کون ہو

میں کون ہوں وہ جس سے ملنے کے لیے

تم اس قدر بے تاب ہو تم کون ہو

میں تو ابھی برسا نہیں دو بوند بھی

تم روح تک سیراب ہو تم کون ہو

یہ موسم کمیابی گُل کل بھی تھا

تم آج بھی نایاب ہو تم کون ہو

چھوتے ہو دل کچھ اس طرح جیسے صدا

اک ساز پر مضراب ہو تم کون ہو

دل کی خبر دنیا کو ہے تم کو نہیں

کیسے مرے احباب ہو تم کون ہو

وہ گھر ہوں میں جس کے نہیں دیوار و

در

اس گھر کا تم اسباب ہو تم کون ہو

اے چاہنے والے مجھے اس عہد میں

میرا بہت آداب ہو تم کون ہو

1995

عبید اللہ علیمؔ

کسی خواب کی یہ ہم کو تعبیر نظر آئی

کس خواب کی یہ ہم کو تعبیر نظر آئی

زندان نظر آیا، زنجیر نظر آئی

سب اپنے عذابوں میں سب اپنے حسابوں

میں

دنیا یہ قیامت کی تصویر نظر آئی

کچھ دیکھتے رہنے سے، کچھ سوچتے رہنے

سے

اک شخص میں دنیا کی تقدیر نظر آئی

جلتا تھا میں آگوں میں روتا تھا میں

خوابوں میں

تب حرف میں یہ اپنی تصویر نظر آئی

دربار میں حاضر ہیں پھر اہلِ قلم اپنے

کیا حرف و بیاں میں ہے تاثیر، نظر آئی

کچھ خواب گلاب ایسے، کچھ زخم عذاب ایسے

پھر دل کے کھنڈر میں اک تعمیر نظر آئی

اک خواب کے عالم میں دیکھا کیے ہم دونوں

لو شمع کی شب ہم کو شمشیر نظر آئی

آبا کی زمینوں میں وہ کام کیا ہم نے

پھر ان کی زمیں اپنی جاگیر نظر آئی

1988

عبید اللہ علیم ؔ