چاند چہرہ ستارہ آنکھیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
چاند چہرہ ستارہ آنکھیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 17 فروری، 2022

ایک ایسی بھی ہوا آئے گی

 

ایک ایسی بھی ہوا آئے گی

جو ہر اِک زخم کو بھر جائے گی

یہ کنارے سے لپٹتی ہوئی موج

کبھی طوفاں بھی اٹھا لائے گی

پھول میں ہو کہ ہوا میں خوشبو

نور ہے نور ہی برسائے گی

اور یہ عشق و ہوس کی دنیا

تشنگی کے سوا کیا پائے گی

پھول بھی شاخ سے گر جائیں گے

شاخ بھی دھوپ سے مرجھائے گی

ہے سمٹتے ہوئے سائے کی صدا

اُٹھ یہ دیوار بھی گر جائے گی

کوئی احساس اگر ہے تو کہو

بات لفظوں سے نہ بن پائے گی

1964ء

عبید اللہ علیم ؔ

اب نہ اس سمت نظر جائے گی

 اب نہ اُس سمت نظر جائے گی

جیسے گزرے گی گزر جائے گی
صُورت زلف یہ تلوار سی رات
جیسے دل ہی میں اتر جائے گی
ہم پہ اب جو بھی قیامت گزرے
تیری دنیا تو سنور جائے گی
دور تک ہم ہی نظر آئیں گے
جس طرف بھی وہ نظر جائے گی
اس بدلتی ہوئی رفتار کے ساتھ
زندگی جانے کدھر جائے گی
اور کچھ دنوں میں جنوں کی اپنے
شہر در شہر خبر جائے گی
لمحہ لمحہ جو سمیٹی   ہے عمر
ایک لمحے میں بکھر جائے گی
1964ء
عبید اللہ علیم ؔ

چاند سا دل ہو چاندنی سا گداز

 چاند سا دل ہو چاندنی سا گداز

ورنہ کیا نغمہ ساز و نغمہ نواز

سننے والو اسے بھی سن لینا

صُورت زخم بھی ہے اِک آواز

جس کو دیکھو وہ دل شکستہ ہے

کون ہے اس جہاں کا آئینہ ساز

قید کی عمر ایسی راس آئی

سو رہی بازوؤں ہی میں پرواز

جس نے بخشے ہیں غم اُسی کیلئے

کر رہا ہوں دعائے عمرِ دراز

1962ء

عبید اللہ علیم ؔ

بدھ، 16 فروری، 2022

کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا

کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا

کس کی تلاش ہے تمہیں اور کون کھو گیا


آنکھوں میں روشنی بھی ہے ویرانیاں بھی ہیں

اِک چاند ساتھ ساتھ ہے اِک چاند گہہ گیا


تم ہمسفر ہوئے تو ہوئی زندگی عزیز

مجھ میں تو زندگی کا کوئی حوصلہ نہ تھا


تم ہی کہو کہ ہوبھی سکے گا مرا علاج

اگلی محبتوں کے مرے زخم آشنا


جھانکا ہے میں نے خلوت جاں میں نگارِ جاں

کوئی نہیں ہے کوئی نہیں ہے ترے سوا


وہ اور تھا کوئی جسے دیکھا ہے بزم میں

گر مجھ کو ڈھونڈنا ہے مری خلوتوں میں آ


اے میرے خواب آ مری آنکھوں کو رنگ دے

اے مری روشنی تو مجھے راستا دکھا


اب آبھی جا کہ صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جاؤں

اے میرے آفتاب بہت تیز ہے ہوا


یارب عطا ہو زخم کوئی شعر آفریں

اِ ک عمر ہو گئی کہ مرا دل نہیں دکھا


وہ دور آگیا ہے کہ اب صاحبان درد

جو خواب دیکھتے ہیں وہی خواب نارسا


دامن بنے تو رنگ ہوا دسترس سے دور

موجِ ہوا ہوئے تو ہے خوشبو گزیر پا


لکّھیں بھی کیا کہ اب کوئی احوالِ دل نہیں

چینخیں بھی کیا کہ اب کوئی سنتا نہیں صدا


آنکھوں میں کچھ نہیں ہے بجز خاکِ رہ گزر

سینے میں کچھ نہیں ہے بجز نالہ و نوا


پہچان لو ہمیں کہ تمہاری صدا ہیں ہم

سن لو کہ پھر نہ آئیں گے ہم سے غزل سرا


1970ء


عبید اللہ علیم ؔ

 

عذاب آئے تھے ایسے کہ پھر نہ گھر سے گئے

عذاب آئے تھے ایسے کہ پھر نہ گھر سے گئے

وہ زندہ لوگ مرے گھر کے جیسے مر سے گئے


ہزار طرح کے صدمے اٹھانے والے لوگ

نہ جانے کیا ہوا اِک آن میں بکھر سے گئے


بچھڑنے والوں کا دکھ ہو تو سوچ لینا یہی

کہ اِک نوائے پریشاں تھے رہ گزر سے گئے


ہزار راہ چلے پھر وہ رہ گزر آئی

کہ اک سفر میں رہے اور ہر سفر سے گئے


کبھی وہ جسم ہوا اور کبھی وہ روح تمام

اسی کے خواب تھے آنکھوں میں ہم جدھر سے گئے


یہ حال ہو گیا آخر تری محبّت میں

کہ چاہتے ہیں تجھے اور تری خبر سے گئے


مرا ہی رنگ تھے، تو کیوں نہ بس رہے مجھ میں

مرا ہی خواب تھے تو کیوں مری نظر سے گئے


جو زخم، زخم ِ زباں بھی ہے اور نمو بھی ہے

تو پھر یہ وہم ہے کیسا کہ ہم ہنر سے گئے



عبید اللہ علیم ؔ

 

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

میں یہ کس کے نام لکھوں، جو الم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں، مرے لوگ مر رہے ہیں

کوئی غُنچہ ہو کہ گُل ہو، کوئی شاخ ہو شجر ہو
وہ ہوائے گلستاں ہے کہ سبھی بِکھر رہے ہیں

کبھی رحمتیں تھیں نازل اِسی خطۂ زمیں پر
وہی خطۂ زمیں ہے کہ عذاب اُتر رہے ہیں

وہی طائروں کے جُھرمٹ جو ہوا میں جُھولتے تھے
وہ فضا کو دیکھتے ہیں تو اب آہ بھر رہے ہیں

بڑی آرزو تھی ہم کو، نئے خواب دیکھنے کی
سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں

کوئی اور تو نہیں ہے، پسِ خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں، ہمیں قتل کر رہے ہیں

1971ء

عبید اللہ علیم ؔ