میر تقی میؔر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
میر تقی میؔر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 15 فروری، 2022

کرتا جنوں جہاں میں

 کرتا جنوں جہاں میں بے نام و ننگ آیا

اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا

 

شب شمع کی بھی جھپکی مجلس میں لگ گئی تھی

سرگرم شوق مردن جس دم پتنگ آیا

 

فتنے فساد اٹھیں گے گھر گھر میں خون ہوں گے

گر شہر میں خراماں وہ خانہ جنگ آیا

 

ہر سر نہیں ہے شایاں شور قلندری کا

گو شیخ شہر باندھے زنجیر و زنگ آیا

 

چسپاں ہے اس بدن سے پیراہن حریری

اتنی بھی تنگ پوشی جی اب تو تنگ آیا

 

باتیں ہماری ساری بے ڈھنگیاں ہیں وے ہی

بوڑھے ہوئے پہ ہم کو اب تک نہ ڈھنگ آیا

 

بشرے کی اپنے رونق اے میرؔ عارضی ہے

جب دل کو خوں کیا تو چہرے پہ رنگ آیا

 

میر تقی میر

میرا ہی مقلد عمل تھا


 میر تقی میر

میرے مالک نے مرے


 میر تقی میر

غزل میر تقی

دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا

یا محبت کہہ کے یہ بار گراں میں لے گیا

 

خاک و خوں میں لوٹ کر رہ جانے ہی کا لطف ہے

جان کو کیا جو سلامت نیم جاں میں لے گیا

 

سرگذشت عشق کی تہ کو نہ پہنچا یاں کوئی

گرچہ پیش دوستاں یہ داستاں میں لے گیا

 

عرصۂ دشت قیامت باغ ہو جائے گا سب

اس طرح سے جو یہ چشم خوں فشاں میں لے گیا

 

ذکر دل جانے کا وہ پر کینہ سن کہنے لگا

یہ سناتے ہو کسے کیا مہرباں میں لے گیا

 

یک جہاں مہر و وفا کی جنس تھی میرے کنے

لیکن اس کو پھیر ہی لایا جہاں میں لے گیا

 

ریختہ کاہے کو تھا اس رتبۂ اعلیٰ میں میرؔ

جو زمیں نکلی اسے تا آسماں میں لے گیا

میر تقی میر

 

 

تا گور کے اوپر وہ

تا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیا

ہم خاک کے آسودوں کو آرام نہ آیا

 

بے ہوش مئے عشق ہوں کیا میرا بھروسا

آیا جو بخود صبح تو میں شام نہ آیا

 

کس دل سے ترا تیر نگہ پار نہ گذرا

کس جان کو یہ مرگ کا پیغام نہ آیا

 

دیکھا نہ اسے دور سے بھی منتظروں نے

وہ رشک مہ عید لب بام نہ آیا

 

سو بار بیاباں میں گیا محمل لیلیٰ

مجنوں کی طرف ناقہ کوئی گام نہ آیا

 

اب کے جو ترے کوچے سے جاؤں گا تو سنیو

پھر جیتے جی اس راہ وہ بدنام نہ آیا

 

نے خون ہو آنکھوں سے بہا ٹک نہ ہوا داغ

اپنا تو یہ دل میرؔ کسو کام نہ آیا

میر تقی میر

 

 

میر تقی میر

دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

 

وعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکن

اس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا

 

منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا

پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا

 

چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلاد

تا حشر مرے سر پہ یہ احسان رہے گا

 

چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغ

محشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا

 

جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگز

تا حشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا

 

دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی

جب تک جیے گا میرؔ پشیمان رہے گا

میر تقی میر

 

 

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا

 

فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر

برنگ سبزۂ نورستہ پائمال کیا

 

رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی

سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا

 

مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم

نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا

 

بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو

چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا

 

جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف

کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا

 

لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے

جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا

میر تقی میر

 

 

شب ہجر میں کم


 میر تقی میر

غزل میر تقی میر

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

 

عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند

یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

 

حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی

ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا

 

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

 

سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں 

بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا

 

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی

کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا

 

کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام

کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا

 

شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانے میں 

جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا

 

کاش اب برقع منھ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہے

آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا

 

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے

رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

 

صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی

رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا

 

ساعد سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے

بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیال خام کیا

 

کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے

استغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا

 

ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی

سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا

 

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

میر تقی میر

 

 

اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا

 اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا

چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا

 

امیدوار وعدۂ دیدار مر چلے

آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا

 

کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں 

کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا

 

اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں 

معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا

 

بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل

اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا

 

جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف

اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا

تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پر

کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا

میر تقی میر

 


پیر، 14 فروری، 2022

جامہ مستی عشق اپنا


 میر تقی میر

نکلے ہے چشمہ جو کوئی

نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا

یاد دہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا

 

لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا

حسن کیا صبح کے پھر چہرۂ نورانی کا

 

کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے

حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا

 

درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں 

سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا

 

جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا

تنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا

 

کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں 

ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا

 

وہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوب

ہم نے سر نامہ کیا کاغذ افشانی کا

 

اس کا منھ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں 

نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا

 

بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں 

معتقد کون ہے میرؔ ایسی مسلمانی کا

میر تقی میر

 

 

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا

آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

 

کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم

آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا

 

آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن

ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا

 

اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ

جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا

 

جانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میں 

کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا

 

نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا

جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا

 

مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے

کل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا

میر تقی میر

 

 

تھا مستعار حسن سے

 تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

 

ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا

پیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا

 

پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں 

معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا

 

آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم

یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا

 

مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر

کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا

 

اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا

دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا

 

منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا

اس رند کی بھی رات گذر گئی جو عور تھا

 

ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر

اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا

ق

کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیا

یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا

 

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر

میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا

 

تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرؔ

سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا

میر تقی میر