پیر، 14 فروری، 2022

ہمیں بے فہم جہاں والے شاہ کہتے ہیں

ہمیں بے فہم جہاں والے شاہ کہتے ہیں

ہمارے پاس ہے کیا خوامخواہ کہتے ہیں


ذرا سے لوگ تو عالم پناہ کہتے ہیں

کبھی کبھی نہیں کہتے وگرنہ کہتے ہیں


بڑے عجب ہیں مرے شہر کے سخن پرور

مری ہر ایک حماقت پہ واہ کہتے ہیں


دریچے تو ہیں سلامت بے نور کیوں ہیں لوگ

سفید کو بھی ہمیشہ سیاہ کہتے ہیں


یہ دنیا والے تماشا لگاتے ہیں ہر روز

جو اپنی چھوٹی محبت کو چاہ کہتے ہیں


ہیں لوگ سب ہی عجیب و غریب سے عاکف

کہ خود ہی چوٹ لگاتے ہیں آہ کہتے ہیں

ارسلان احمد عاکف 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں