ویران سرائے کا دیا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ویران سرائے کا دیا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 15 فروری، 2022

ایک میں بھی ہوں

ایک میں بھی ہوں کُلہ داروں کے بیچ

میرؔ صاحب کے پرستاروں کے بیچ


روشنی آدھی اِدھر آدھی اُدھر

اِک دیا رکّھا ہے دیواروں کے بیچ


میں اکیلی آنکھ تھا کیا دیکھتا

آئنہ خانے تھے نظّاروں کے بیچ


ہے یقیں مجھ کو کہ سیّارے پہ ہوں

آدمی رہتے ہیں سیّاروں کہ بیچ


کھا گیا انسان کو آشوبِ معاش

آگئے ہیں شہر بازاروں کے بیچ


میں فقیر ابنِ فقیر ابنِ فقیر

اور اسکندر ہوں سرداروں کے بیچ


اپنی ویرانی کے گوھر رولتا

رقص میں ہوں اور بازاروں کے بیچ


کوئی اس کافر کو اس لمحے سنے

گفتگو کرتا ہے جب یاروں کے بیچ


اہلِ دل کے درمیا ں تھے میؔر تم

اب سخن ہے شعبدہ کاروں کے بیچ


آنکھ والے کو نظر آئے علیمؔ

اِک محمد ؐمصطفےٰ ساروں کے بیج ؔ

عبید اللہ علیم 

عبید اللہ علیم غزل

ویران سرائے کا دیا ہے
جو کون و مکاں میں جل رہا ہے

یہ کیسی بچھڑنے کی سزا ہے
آئینے میں چہرہ رکھ گیا ہے

خورشید مثال شخص کل شام
مٹی کے سپرد کر دیا ہے

تم مر گئے حوصلہ تمھارا
زندہ ہوں یہ میرا  حوصلہ ہے

اندر بھی زمیں کے روشنی ہو
مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے

میں کون سا خواب دیکھتا ہوں
یہ کون سے ملک کی فضا ہے

وہ کون سا ہاتھ ہے کہ جس نے
مجھ آگ کو خاک سے لکھا ہے

رکّھا تھا خلا ء میں پاؤں میں نے
رستے میں ستارہ آگیا ہے

شاید کہ خدا میں اور مجھ میں
اِک جست کا اور فاصلہ ہے

گردش میں ہیں کتنی کائناتیں
بچہ مرا پاؤں چل رہا ہے


عبید اللہ علیم