دیوانِ غالؔب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
دیوانِ غالؔب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 15 فروری، 2022

دہر میں نقشِ وفا

دہر میں نقشِ وفا وجہ تسلی نہ ہوا

ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا

 

نہ ہوئی ہم سے رقم حیرتِ خطِّ رخِ یار

صفحۂ آئینہ جولاں گہِ طوطی نہ ہوا [1]

 

سبزۂ خط سے ترا کاکلِ سرکش نہ دبا

یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا

 

میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں

وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

 

دل گزر گاہ خیالِ مے و ساغر ہی سہی

گر نفَس جادۂ سرمنزلِ تقوی نہ ہوا

 

ہوں ترے وعدہ نہ کرنے پہ [2] بھی راضی کہ کبھی

گوش منت کشِ گلبانگِ تسلّی نہ ہوا

 

کس سے محرومیِ قسمت کی شکایت کیجیے

ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں، سو وہ بھی نہ ہوا

 

وسعتِ رحمتِ حق دیکھ کہ بخشا جائے [3] 

مجھ سا کافر کہ جو ممنونِ معاصی نہ ہوا

 

[4] مر گیا صدمۂ یک جنبشِ لب سے غالبؔ

ناتوانی سے حریف دمِ عیسی نہ ہوا

مرزا غالب

  

مرزا اسد اللہ خان غالب

شمار سبحہ، "مرغوبِ بتِ مشکل" پسند آیا

تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا

 

بہ فیضِ بے دلی، نومیدیِ جاوید آساں ہے

کشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا

 

ہوائے [1] سیرِ گل، آئینۂ بے مہریِ قاتل

کہ اندازِ بخوں غلطیدنِ [2] بسمل پسند آیا

 

ہوئی جس کو بہارِ فرصتِ ہستی سے آگاہی

برنگِ لالہ، جامِ بادہ بر محمل پسند آیا

 

سوادِ چشمِ بسمل انتخابِ نقطہ آرائی

خرامِ نازِ بے پروائیِ قاتل پسند آیا

 

[3] روانی ہائے موجِ خونِ بسمل سے ٹپکتا ہے

کہ لطفِ بے تحاشا رفتنِ قاتل پسند آیا

 

اسدؔ ہر جا سخن نے طرحِ باغِ تازہ ڈالی ہے

مجھے رنگِ بہار ایجادیِ بیدلؔ پسند آیا

مرزا اسد اللہ خان غالب

  

دھمکی میں مر

دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا

 

[1] دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا

"عشقِ نبرد پیشہ" طلبگارِ مرد تھا

 

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا

اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا

 

تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں

مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا

 

دل تا جگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب

اس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا

 

جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی!

دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا

 

احباب چارہ سازیِ وحشت نہ کر سکے

زنداں میں بھی خیال، بیاباں نورد تھا

 

یہ لاشِ بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

مرزا اسد اللہ خان غالب 

1. شارحینِ کلام کے نزدیک وقفہ "جو" کے بجاے "گیا" کے بعد ہے۔ (حامد علی خان) ۔ حامد علی خان کے نسخے میں یہ مصرع یوں ہے: دھمکی میں مر گیا جو، نہ بابِ نرجد تھا (جویریہ مسعود)

 

شوق ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا

شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا

 

شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

 

زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یارب

تیر بھی سینۂ بسمل سے پَرافشاں نکلا

 

بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل

جو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا

 

دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد

کام یاروں کا بہ قدرِ لب و دنداں نکلا

 

[1] اے نو آموزِ فنا ہمتِ دشوار پسند!

سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا

 

شوخیِ رنگِ حنا خونِ وفا سے کب تک

آخر اے عہد شکن! تو بھی پشیماں نکلا [2]

 

دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبؔ

آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سُو طوفاں نکلا

 

1. بعض نسخوں میں "اے" کی جگہ "ہے" اور بعض میں اس کی جگہ "تھی" بھی چھپا ہے۔ حسرت موہانی اور طباطبائی کے نسخوں، نیز بعض دوسرے نسخوں میں "اے" ہی چھپا ہے۔ (حامد علی خاں)

2. نسخۂ حمیدیہ میں مزید شعر (اعجاز عبید)

 

دل میرا سوز نہاں سے

دل میرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا

 

دل میرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا

آتش خاموش کی مانند، گویا جل گیا

 

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں

آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

 

میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا

میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا

 

عرض کیجیے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟

کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا

 

دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار

اِس چراغاں کا کروں کیا، کارفرما جل گیا

 

دود میرا سنبلستاں سے کرے ہے ہمسری

بس کہ ذوقِ آتشِ گل سے سراپا جل گیا

 

شمع رویوں کی سر انگشتِ حنائی دیکھ کر

غنچۂ گل پر فشاں، پروانہ آسا، جل گیا

 

خانمانِ عاشقاں دکانِ آتش باز ہے

شعلہ رو جب ہو گئے گرمِ تماشا، جل گیا [1]

 

تا کجا افسوسِ گرمی ہائے صحبت، اے خیال

دل بسوزِ آتشِ داغِ تمنّا جل گیا [2]

 

میں ہوں اور افسردگی کی آرزو، غالبؔ! کہ دل

دیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا

 

1. نسخۂ حمیدیہ میں یہ مصرع یوں ہے: "شعلہ رویاں جب ہوئے گرمِ تماشا جل گیا" (جویریہ مسعود)

2. نسخۂ حمیدیہ میں یہ مصرع یوں ہے: دل ز آتش خیزیِ داغِ تمنا جل گیا

 

سراپا رہن عشق و ناگزیر


 

نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی


 

سلام

سلام

 

سلام اسے کہ اگر بادشہ کہیں اُس کو

تو پھر کہیں کچھ اِس سے سوا کہیں اُس کو

 

نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستائش ہے

کہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اُس کو

 

خدا کی راہ میں ہے شاہی و خسروی کیسی؟

کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اُس کو

 

خدا کا بندہ، خداوند گار بندوں کا

اگر کہیں نہ خداوند، کیا کہیں اُس کو؟

 

فروغِ جوہرِ ایماں، حسین ابنِ علی

کہ شمعِ انجمنِ کبریا کہیں اُس کو

 

کفیلِ بخششِ اُمّت ہے، بن نہیں پڑتی

اگر نہ شافعِ روزِ جزا کہیں اُس کو

 

مسیح جس سے کرے اخذِ فیضِ جاں بخشی

ستم ہے کُشتۂ تیغِ جفا کہیں اُس کو

 

وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل سبیل

شہیدِ تشنہ لبِ کربلا کہیں اُس کو

 

عدو کی سمعِ رضا میں جگہ نہ پائے وہ بات

کہ جنّ و انس و ملَک سب بجا کہیں اُس کو

 

بہت ہے پایۂ گردِ رہِ حسین بلند

بقدرِ فہم ہے گر کیمیا کہیں اُس کو

 

نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرّۂ خاک

کہ لوگ جوہرِ [1] تیغِ قضا کہیں اُس کو

 

ہمارے درد کی یا رب کہیں دوا نہ ملے

اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اُس کو

 

ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسنِ صبر کی داد

مگر نبی و علی مرحبا کہیں اُس کو

 

زمامِ ناقہ کف اُس کے میں ہے کہ اہلِ یقیں

پس از حسینِ علی پیشوا کہیں اُس کو

 

وہ ریگِ لقمۂ [2] وادی میں خامہ فرسا ہے

کہ طالبانِ خدا رہنما کہیں اُس کو

 

امامِ وقت کی یہ قدر ہے کہ اہلِ عناد

پیادہ لے چلیں اور ناسزا کہیں اُس کو

 

یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمنِ دیں

علی سے آگے لڑے اور خطا کہیں اُس کو

 

یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ

بُرا نہ مانیے گر ہم بُرا کہیں اُس کو

 

علی کے بعد حسن، اور حسن کے بعد حسین

کرے جو ان سے بُرائی، بھلا کہیں اُس کو؟

 

نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد، کافر ہے

رکھے امام سے جو بغض، کیا کہیں اُس کو؟

 

بھرا ہے غالبؔ دِل خستہ کے کلام میں درد

غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اُس کو

 مرزا اسد اللہ خان غالب


1. نسخۂ مہر میں " کہ ایک جوہر" (جویریہ مسعود)

2. نسخۂ مہر میں "تفتہ" (جویریہ مسعود)

 

ہاں اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہو

ہاں! اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہو

ہاں! اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہو

اے دجلۂ خوں! چشمِ ملائک سے رواں ہو

اے زمزمۂ قُم! لبِ عیسیٰ پہ فغاں ہو

اے ماتمیانِ شہِ مظلوم! کہاں ہو

بگڑی ہے بہت بات، بنائے نہیں بنتی

اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی

 

تابِ سخن و طاقتِ غوغا نہیں ہم کو

ماتم میں شہِ دیں کے ہیں، سودا نہیں ہم کو

گھر پھونکنے میں اپنے، مُحابا نہیں ہم کو

گر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو

یہ خرگۂ نُہ پایا جو مدّت سے بَپا [1] ہے

کیا خیمۂ شبّیر سے رتبے میں سِوا ہے؟

 

کچھ اور ہی عالم نظر آتا ہے جہاں کا

کچھ اور ہی نقشہ ہے دل و چشم و زباں کا

کیسا فلک! اور مہرِ جہاں تاب کہاں کا!

ہو گا دلِ بےتاب کسی سوختہ جاں کا

اب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہے [2]

گِرتا نہیں اس روُ سے کہو برق نہیں ہے

مرزا غالب 

1. نسخۂ مہر میں " بہ جا"(جویریہ مسعود)

2. نسخۂ مہر میں یہ مصرع اس طرح درج ہے:

اب مہر میں اور برق میں کچھ فرق نہیں ہے

(جویریہ مسعود)

 

تضمین بر غزل بہادر شاہ ظفر

تضمین بر غزل بہادر شاہ ظفر

 

گھستے گھستے پاؤں کی زنجیر آدھی رہ گئی

مر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی

سب ہی پڑھتا کاش، کیوں تکبیر آدھی رہ گئی

"کھنچ کے، قاتل! جب تری شمشیر آدھی رہ گئی

غم سے جانِ عاشقِ دل گیر آدھی رہ گئی"

 

بیٹھ رہتا لے کے چشمِ پُر نم اس کے روبروُ

کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے روبرو

بات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے روبرو

"کہہ سکے ساری حقیقت کب ہم اس کے روبرو

ہم نشیں! آدھی ہوئی تقریر، آدھی رہ گئی"

 

تو نے دیکھا! مجھ پہ کیسی بن گئی، اے رازدار!

خواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیار

مثلِ زخم آنکھوں کو سی دیتا، جو ہوتا ہوشیار

"کھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویرِ یار

جاگ اٹھا جو، کھینچنی تصویر آدھی رہ گئی"

 

غم نے جب گھیرا، تو چاہا ہم نے یوں، اے دل نواز!

مستیِ چشمِ سیہ سے چل کے ہوویں چارہ ساز

توُ صدائے پا سے جاگا تھا، جو محوِ خوابِ ناز

"دیکھتے ہی اے ستم گر! تیری چشمِ نیم باز

کی تھی پوری ہم نے جو تدبیر، آدھی رہ گئی"

 

اس بتِ مغرور کو کیا ہو کسی پر التفات

جس کے حسنِ روز افزوں کی یہ اک ادنیٰ ہے بات

ماہِ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان سات

"اس رُخِ روشن کے آگے ماہِ یک ہفتہ کی رات

تابشِ خورشیدِ پُر تنویر آدھی رہ گئی"

 

تا مجھے پہنچائے کاہش، بختِ بد ہے گھات میں

ہاں فراوانی! اگر کچھ ہے، تو ہے آفات میں

جُز غمِ داغ و الم، گھاٹا ہے ہر اک بات میں

"کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میں

آتے ہی خاصیّتِ اکسیر آدھی رہ گئی"

 

سب سے یہ گوشہ کنارے ہے، گلے لگ جا مرے

آدمی کو کیا پکارے ہے، گلے لگ جا مرے

سر سے گر چادر اتارے ہے، گلے لگ جا مرے

"مانگ کیا بیٹھا سنوارے ہے، گلے لگ جا مرے

وصل کی شب، اے بتِ بے پیر آدھی رہ گئی"

 

میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھِر گئے

پھر نصیب اپنا، انھیں جاتے سنا، جوں پھر گئے

دیکھنا قسمت وہ آئے، اور پھر یوں پھِر گئے

"آ کے آدھی دور، میرے گھر سے وہ کیوں پھِر گئے

کیا کشش میں دل کی ان تاثیر آدھی رہ گئی"

 

ناگہاں یاد آ گئی ہے مجھ کو، یا رب! کب کی بات

کچھ نہیں کہتا کسی سے، سن رہا ہوں سب کی بات

کس لیے تجھ سے چھپاؤں، ہاں! وہ پرسوں شب کی بات

"نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات

خط میں آدھی ہو سکی، تحریر آدھی رہ گئی"

 

ہو تجلّی برق کی صورت میں، ہے یہ بھی غضب

پانچ چھ گھنٹے تو ہوتی فرصتِ عیش و طرب

شام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب

"پاس میرے وہ جو آئے بھی، تو بعد از نصف شب

نکلی آدھی حسرت، اے تقدیر! آدھی رہ گئی"

 

تم جو فرماتے ہو، دیکھ اے غالبؔ آشفتہ سر

ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے، گیا کیوں اُس کے گھر؟

جان کی پاؤں اماں، باتیں یہ سب سچ ہیں مگر

"دل نے کی ساری خرابی، لے گیا مجھ کو ظفر

واں کے جانے میں مری توقیر آدھی رہ گئی"

مرزا غالب

 

ایک دن مثلِ پتنگِ کاغذی

ایک دن مثلِ پتنگِ کاغذی

 

ایک دن مثلِ پتنگِ کاغذی

لے کے دل سر رشتۂ آزادگی

 

خود بخود کچھ ہم سے کَنیانے لگا

اس قدر بگڑا کہ سر کھانے لگا

 

میں کہا، اے دل، ہوائے دلبراں!

بس کہ تیرے حق میں رکھتی ہے زیاں

 

بیچ میں ان کے نہ آنا زینہار

یہ نہیں ہیں گے کِسے کے یارِ غار

 

گورے پنڈے پر نہ کر ان کے نظر

کھینچ لیتے ہیں یہ ڈورے ڈال کر

 

اب تو مِل جائے گی ان سے تیری گانٹھ

لیکن آخر کو پڑے گی ایسی سانٹھ [1]

 

سخت مشکل ہو گا سلجھانا تجھے

قہر ہے، دل ان میں الجھانا تجھے

 

یہ جو محفل میں بڑھاتے ہیں تجھے

بھول مت اس پر اُڑاتے ہیں تجھے

 

ایک دن تجھ کو لڑا دیں گے کہیں

مفت میں ناحق کٹا دیں گے کہیں

 

دل نے سن کر۔ کانپ کر، کھا پیچ و تاب

غوطے میں جا کر، دیا کٹ کر جواب

 

رشتۂ در گردنم افگندہ دوست

می بُرد ہر جا کہ خاطر خواہِ اوست

مرزا غالب 

1. نسخۂ مہر میں یہ شعر اس طرح درج ہے:

اب تو مِل جائے گی ان سے تیری سانٹھ

لیکن آخر کو پڑے گی ایسی گانٹھ

(جویریہ مسعود)

 

مثنوی در صفتِ انبہ

مثنوی در صفتِ انبہ

 

ہاں، دلِ درد مندِ زمزمہ ساز

کیوں نہ کھولے درِ خزینۂ راز

 

خامے کا صفحے پر رواں ہونا

شاخِ گل کا ہے گلفشاں ہونا

 

مجھ سے کیا پوچھتا ہے کیا لکھیے؟

نکتہ ہائے خرد فزا لکھیے!

 

بارے، آموں کا کچھ بیاں ہو جائے

خامہ نخلِ رطب فشاں ہو جائے

 

آم کا کون مردِ میدان ہے

ثمر و شاخ گوئے و چوگاں ہے

 

تاک کے جی میں کیوں رہے ارماں

آئے، یہ گوئے اور یہ میداں

 

آم کے آگے پیش جاوے [1] خاک

پھوڑتا ہے جلے پھپھولے تاک

 

نہ چلا جب کسی طرح مقدور

بادۂ ناب بن گیا انگور

 

یہ بھی ناچار جی کا کھونا ہے

شرم سے پانی پانی ہونا ہے

 

مجھ سے پوچھو، تمہیں خبر کیا ہے!

آم کے آگے نیشکر کیا ہے!

 

نہ گل اس میں نہ شاخ و برگ، نہ بار [2]

جب خزاں آئے تب ہو اس کی بہار [3]

 

اور دوڑائیے قیاس کہاں

جانِ شیریں میں یہ مٹھاس کہاں

 

جان میں ہوتی گر یہ شیرینی

کوہکن باوجودِ غمگینی

 

جان دینے میں اس کو یکتا جان

پَر وہ یوں سہل دے نہ سکتا جان

 

نظر آتا ہے یوں مجھے یہ ثمر

کہ دوا خانۂ ازل میں، مگر

 

آتشِ گل پہ قند کا ہے قوام

شیرے کے تار کا ہے ریشہ نام

 

یا یہ ہو گا، کہ فرط رافت سے

باغبانوں نے باغِ جنت سے

 

انگبیں کے، بہ حکم رب الناس

بھر کے بھیجے ہیں سربمہر گلاس

 

یا لگا کر خضر نے شاخِ نبات

مدتوں تک دیا ہے آبِ حیات

 

تب ہوا ہے ثمر فشاں یہ نخل

ہم کہاں ورنہ اور کہاں یہ نخل

 

تھا ترنجِ زر ایک خسرو پاس

رنگ کا زرد پر کہاں بو باس

 

آم کو دیکھتا اگر اک بار

پھینک دیتا طلائے دست افشار

 

رونقِ کارگاہِ برگ و نوا

نازشِ دودمانِ آب و ہوا

 

رہروِ راہِ خلد کا توشہ

طوبیٰ و سِدرہ کا جگر گوشہ

 

صاحبِ شاخ و برگ [4] و بار ہے آم

ناز پروردۂ بہار ہے آم

 

خاص وہ آم جو نہ ارزاں ہو

نو برِ نخلِ باغِ سلطاں ہو

 

وہ کہ ہے والیِ ولایتِ عہد

عدل سے اس کے ہے حمایتِ عہد

 

فخرِ دیں عزِ شان و جاہِ جلال [5]

زینتِ طینت و جمالِ کمال

 

کار فرمائے دین و دولت و بخت

چہرہ آرائے تاج و مسند و تخت

 

سایہ اُس کا ہما کا سایہ ہے

خلق پر وہ خدا کا سایہ ہے

 

اے مفیضِ وجودِ سایہ و نور!

جب تلک ہے نمودِ سایہ و نور

 

اِس خداوندِ بندہ پرور کو

وارثِ گنج و تخت و افسر کو

 

شاد و دلشاد و شادماں رکھیو

اور غالبؔ پہ مہرباں رکھیو!

مرزا اسد اللہ خان غالب

 

1. نسخۂ مہر میں "جائے" (جویریہ مسعود)

2. نسخۂ آسی میں "نہ شاخ و برگ و بار (جویریہ مسعود)

3. جب خزاں ہو تب آئے اس کی بہار (نسخۂ مہر)

4. نسخۂ مہر میں " شاخِ برگ و بار" (جویریہ مسعود)

5. نسخۂ مہر میں "عز جاہ و شانِ جلال" چھپا ہے۔ اس سے کوئی خاص معنوی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ (حامد علی خان)

 

عشق سے طبیعت نے

 عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

 

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا

 

غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل

خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا

 

شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا

آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا

 

فکرِ نالہ میں گویا، حلقہ ہوں زِ سر تا پا

عضو عضو جوں زنجیر، یک دلِ صدا پایا

 

حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی

ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا

 

شب نظارہ پرور تھا خواب میں خرام [1] اس کا

صبح موجۂ گل کو نقشِ [2] بوریا پایا

 

جس قدر جگر خوں ہو، کوچہ دادنِ گل [3] ہے

زخمِ تیغِ قاتل کو طُرفہ دل کشا پایا

 

ہے نگیں کی پا داری نامِ صاحبِ خانہ

ہم سے تیرے کوچے نے نقشِ مدّعا پایا

 

دوست دارِ دشمن ہے! اعتمادِ دل معلوم

آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا

 

نَے اسدؔ جفا سائل، نَے ستم [4] جنوں مائل

تجھ کو جس قدر ڈھونڈا الفت آزما پایا

 

1. نسخۂ حمیدیہ میں "خیال" بجائے "خرام" (جویریہ مسعود)

2. نسخۂ حمیدیہ میں "وقف" بجائے "نقش" (جویریہ مسعود)

3. نسخۂ حمیدیہ میں "دل" بجائے "گل" (جویریہ مسعود)

4. نسخۂ حمیدیہ میں "سمِّ جنوں " بجائے "ستم جنوں" (جویریہ مسعود)


کہتے ہو نہ دیں گے ہم


 مرزا اسد اللہ خان غالب

مرزا غالب

 عالم جہاں بعرضِ بساطِ وجود تھا

 

عالم جہاں بعرضِ بساطِ وجود تھا

جوں صبح، چاکِ جَیب مجھے تار و پود تھا

 

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار

صحرا، مگر، بہ تنگیِ چشمِ حُسود [1] تھا

 

بازی خورِ فریب ہے اہلِ نظر کا ذوق

ہنگامہ گرم حیرتِ بود و نمود تھا

 

عالم طلسمِ شہرِ خموشاں ہے سر بسر

یا میں غریبِ کشورِ گفت و شنود تھا

 

آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست

ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا

 

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ

جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

 

لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز

لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

 

ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی

میں، ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا

 

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسدؔ

سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

 

مرزا غالب


پیر، 14 فروری، 2022

جنوں گرم انتظار

جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا

 

جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا

سویدا تا بلب زنجیر سے [1] دودِ سپند آیا

 

مہِ اختر فشاں کی بہرِ استقبال آنکھوں سے

تماشا کشورِ آئینہ میں آئینہ بند آیا

 

تغافل، بد گمانی، بلکہ میری سخت جانی ہے

نگاہِ بے حجابِ ناز کو بیمِ گزند آیا

 

فضائے خندۂ گُل تنگ و ذوقِ عیش بے پروا

فراغت گاہِ آغوشِ وداعِ دل پسند آیا

 

عدم ہے خیر خواہِ جلوہ کو زندانِ بے تابی

خرامِ ناز برقِ خرمنِ سعیِ پسند آیا

 

جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغِ جگر ہدیہ

مبارک باد اسدؔ، غمخوارِ جانِ دردمند آیا

 مرزا اسد اللہ خان غالب

 

نقش فریادی ہے کس کی

 


 

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

 

شوخیِ نیرنگ، صیدِ وحشتِ طاؤس ہے

دام، سبزے میں ہے پروازِ چمن تسخیر کا

 

لذّتِ ایجادِ ناز، افسونِ عرضِ ذوقِ قتل

نعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا

 

کاؤکاوِ [1] سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا

 

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے

سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

 

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے

مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

 

خشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداع

پُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا

 

وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ

جو مزہ [2] جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا

 

بس کہ ہوں غالبؔ، اسیری میں بھی آتش زیِر پا

موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

 

مرزا غالب