جمعرات، 2 اپریل، 2020

ساغر صدیقی


اسد اللہ خان غالب


شاعرہ، طوبیٰ امجد

کرونا وائرس پر آزاد نظم

کرونا کو تم ختم کرو نا
تھوڑی سی احتیاط کرو نا

خدا کے آگے التجا کرو نا
خدا یہ وائرس ختم کرو نا

بچاؤ خود کو اس وبا سے 
کرو علاج تم دعا سے 

ختم کرنا ہو جو کرونا
دن میں ہاتھ تم بار بار دھونا

خدا کے آگے بار بار تم رونا
پھر نہیں چھوئےگا تمہیں کرونا 

ترقیوں کو جو جا لگے تھے
زمین بوس ہیں وہ سارے

اے پیارے سمجھ اشارے 
کیا کہنا چاہتا ہے خداراہ

کچھ وقت اس کی یاد میں صرف کرو نا 
تم خدا کے آگے دعا کرو نا 

کرونا یہ سب کیا کررہا ہے 
انسان سے انسان مر رہا ہے

بخشش کا تم سامان کرو نا 
یا اللہ ہم کو معاف کرو نا 

اپنی رحمت سے تم ڈھانپ لو نا 
کرونا کو تم ختم کرو نا

وہ پیار کرتا ہے تم سے ممتا جیسا 
تم بھی اس سے پیار کرو نا 

شرک کو چھوڑو بدعت کو چھوڑو
اے ایمان والو اس کو ایک کہو نا

نہ تم بناؤ اس کے شریک 
کیونکہ وہ تو ہے واحدہ لاشریک

یہ پیر منگتے فقیر چھوڑو 
کبھی تو اسکی عبادت کرو نا 

ہے اسکا فیض ہر سو
اسکے فیض کو طلب کرو نا

یا حفیظ و یا عزیز و یا رفیق کا 
تم ہر وقت ورد کرو نا

ہے آیا عذاب کیونکر یہ تم پر 
یہ سوچ کر تم توبہ کرو نا


زمین کو چیرا آسمان کو چوما 
اب ہوا کیا ہے تم کو اس کا کچھ کا علاج کرونا


سب ہربےتم نے آزما لئے ہیں 
اب میری مانو تو تم توبہ کرو نا 

شاعرہ
(طوبیٰ امجد 109 رب ورکشاپ فیصل آباد)

بشیر بدر


تعلیم بنیادی حق

تعلیم بنیادی حق 
تحریر: نواب رانا ارسلان٬ اسماعیل آباد

تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں ہر بچا اسے حاصل نہیں کر سکتا کیوں کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائی نہیں ہوتی اور پرائیویٹ کی فیس ہر کوئی ادا نہیں کر سکتا۔ افسوس کہ گلِ چمن سڑکوں پہ پانی جوس اور پھول بیچ رہے ہیں اور روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے لگانے والوں کو کسی کی فکر نہیں، پہلے چار دن شوشل ورکرز کی طرف سے ایک نعرہ بلند ہوا تھا کہ "تعلیم دو" "تعلیم دو" لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ آواز بھی تھم چکی ہے۔ سندھ کے بہت سے سرکاری اسکولوں کی عمارات میں لاکھوں روپے خرچ ہوئے ہیں لیکن ان میں تعلیم کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ افسوس کہ یہاں بہت سے میٹرک کے ایسے شاگرد بھی ہیں جنہیں اردو پڑھنی نہیں آتی، استاد اسکولوں میں آتے ہیں اور سارا دن باتیں کرتے ہیں اور پھر چھٹی کے وقت اپنے گھروں میں چلے جاتے ہیں۔ امتحانات میں سرِعام نکل ہوتی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
سرکاری اسکولوں میں استاد بہت پڑھے لکھے ہیں لیکن بچوں کو پڑھاتے نہیں ہیں بعض جگوں پہ تو استاد اسکول بھی نہیں آتے اور مفت کی تنخوا لیتے ہیں۔ پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھائی تو ہوتی ہے لیکن ان کے استاد زیادہ تجربہ گار نہیں ہوتے اور پرائیویٹ اسکولوں کی فیس ہر بچا ادا بھی نہیں کر سکتا۔ سندھ میں کاپی کلچر عروج پر پہنچا ہے، اردو زبان کی تو یہاں کوئی اہمیت ہی نہیں ہے، چند ایک کے سوا یہاں کوئی شخص اردو سے اچھی طرح واقف ہی نہیں۔
استاد کا احترام کرنا ہر شاگرد کا فرض ہے لیکن میں نے بہت سے پرائیویٹ اسکولوں میں دیکھا ہے کہ شاگرد استاد کا احترام نہیں کرتے وہ اس لیے کہ وہ فیس دیتے ہیں، یہ بہت نامناسب سی بات ہے، شاگردوں کو چاہیے کہ وہ استاد کا دل سے احترام کریں کیوں کہ جو شاگرد استاد کا احترام نہیں کرتا وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔
الله تعالی ہمارے سرکاری اسکولوں کے ایسے استادوں کو ہدایت دے جو مفت کی تنخوا لیتے ہیں لیکن پڑھاتے نہیں، اور الله تعالی ہمیں اور وطنِ عزیز کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین

بدھ، 1 اپریل، 2020

نواب رانا ارسلان


احمد فراز


سیف الدین سیف

سیف الدین سیف


یاسر اور حِنا ، از قلم، علیشاء اکرم ، اسماعیل آباد

اردو کہانی
یاسر اور حِنا
از قلم۔ علیشاء اکرم
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شہزادی ہوتی ہے جس کا نام حنا ہوتا ہے وہ بہت خوبصورت ہوتی ہے وہ ایک رات ایک دوست کی شادی پر جاتی ہے وہاں ایک لڑکا یاسر ہوتا ہے جو کہ فوجی ہوتا ہے وہ بھی بہت خوبصورت تھا حنا کو یاسر بہت پسند آتا ہے ایک اور لڑکی یاسر کو پسند کرتی ہے اس کا نام حرا تھا مگر یاسر بھی حنا کو پسند کرتا تھا۔ حرا حنا کو جھوٹ بولتی ہے کہ یاسر لڑکیوں کو دھوکا دیتا ہے مگر حنا کو اس پر یقین نہیں ہوتا وہ دونوں روزانہ ملنے لگتے ہیں وہ دونوں نکاح کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں مگر یاسر کو ایک جنگ پر جانا ہوتا ہے حنا یاسر کو چھوڑنے جاتی ہے جنگ کے بعد پیغام آتا ہے کہ یاسر اب اس دنیا میں نہیں رہا مگر یہ جھوٹ تھا حنا کو یہ جھوٹی خبر سن کر اتنا دکھ ہوتا ہے کہ وہ رونے لگتی ہے کچھ عرصے بعد یاسر سے ملتی ہیں تو خوشی سے گلے لگ جاتی ہے پھر یاسر کا دوست سفیان اس کا دشمن بن جاتا ہے کیوں کہ وہ حنا کو پسند کرتا تھا مگر حنا نہیں پسند کرتی تھی۔ سفیان یاسر کے ماں باپ کو مار دیتا ہے اور دوسرے لوگوں پر نام لگا دیتا ہے پھر وہ یاسر کے بھائی نمعان کو بھی مار دیتا ہے جو کہ یاسر کا سب سے خوبصورت اور چھوٹا بھائی تھا۔ یاسر کو یہ بات نہیں پتا تھی کہ اس کے ماں باپ اور بھائی کو کس نے مارا ہے۔ جب یاسر کو یہ بات پتا لگتی ہے کہ اس کے ماں باپ اور بھائی کو سفیان نے مارا ہے تو یاسر کیس لڑتا ہے اور  جج سفیان کو عمر قید کی سزا سنا دیتا ہے۔ جب یاسر اور حِنا کا نکاح ہوتا ہے تو کچھ عرصے بعد ان کا بیٹا ہوتا ہے اس کا نام وہ نمعان رکھتے ہیں اور ہسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔

عبید الله علیم


یہ کیسا ہے تماشہ اپریل فول، اہلِ قلم

یہ کیسا ہے تماشہ اپریل فول
نواب رانا ارسلان