اشاعتیں

اب نہ اس سمت نظر جائے گی

چاند سا دل ہو چاندنی سا گداز

میرے ہر نقش کو

کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا

عذاب آئے تھے ایسے کہ پھر نہ گھر سے گئے

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

کوئی دھن ہو

دل دریچہ

معاذ فرہاد

میں نے دیکھا تو نہیں

ایک میں بھی ہوں